Tuesday, August 12, 2025

انس الشریف ۔۔۔۔۔۔ ایک نڈر صحافی

 


انس الشریف۔۔۔ ایک نڈر صحافی 

ایک عظیم مجاہد،

دشمنوں کی صفوں کو للکارنے والا،

ہمت و استقلال کا پہاڑ،

شہر عزیمت کا سپاہی،

بے باک و جانباز صحافی،

بموں اور راکٹوں سے ٹکرانے والا،

بندوق کی گولیوں سے تیز و طرار آواز کے ساتھ،

غزہ کے چپے چپے کی رپورٹنگ کرنے والا،

حقائق کو سامنے لانے والا،

اسرائیل کی ناک میں دم کرنے والا،

سچ کی تیز آواز سے اسرائیلی افواج کی اینٹ سے اینٹ بجانے والا،

بھوکے پیاسے رہ کر اپنے صحافتی مشن کو آگے بڑھانے والا،

الجزیرہ کا ہیرو نامہ نگار،

لاکھوں لوگوں کی دھڑکن،

بار بار نقصان اور غموں کو جھیلنے والا،

تمام تر پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوجود،

سچ کہنے سے پیچھے نہ ہٹنے والا،

یتیموں، معصوموں اور مظلوموں کا لاڈلا،

فلسطین کی آواز، غزہ کا سہارا،

پیاری بیٹی "شام" کا ایک بہادر باپ،

عزیز بیٹے "صلاح" کے ایک دلیر والد،

پیاری والدہ کا ایک ہونہار بیٹا،

وفادار بیوی "ام صلاح بیان" کا ایک عظیم شوہر،

بہادری، دلیری، جرات مندی، بےباکی، 

شجاعت، استقامت و ثبات کی ایک زبردست مثال،

دنیا کے سامنے گونجنے والی آواز، 


مگر آہ وہ آواز آج خاموش ہو گئی،

جو دنیا کو چیخ چیخ کر کہتی تھی،

یہاں غزہ ہے، یہاں حقیقت ہے، یہاں سچ ہے، 

کیسے یقین کروں کہ وہ چہرہ جو جنگ کی ہولناکیوں میں بھی مسکراتا تھا،

آج زمین کے نیچے دفن ہے، 

وہ صحافی جو ملبے کے ڈھیر میں امید تلاش کرتا تھا،

آج ملبے کا خود حصہ بن گیا، 

وہ جو ماں کے آنسو،

بچوں کی چیخ،

اور شہیدوں کے خون کو دنیا تک پہنچاتا تھا،

آج خود ایک خبر بن گیا،

تیری آواز خاموش ہے،

مگر تیرا خون ضمیر جنجھوڑنے والی شہ سرخی ہے،

سو جاؤ انس، سکون و چین کی نیند لے کر سو جاؤ!!

تم نے غزہ کو آخری سانس تک نہیں چھوڑا،

غزہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا،

تم نے صحافت کا حق ادا کیا،

آخری رپورٹ اپنے خون سے لکھ دی،

اب تم ہم سب کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو_


اللہ تعالیٰ انس الشریف، محمد قریقع، ابراہیم اور دیگر تمام صحافیوں کی شہادت کو قبول فرمائے،

غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی نصرت و مدد فرمائے_ آمین!

ظفر ہاشم مبارکپوری 

12/ اگست 2025ء

17/صفر المظفر 1447ھ


Sunday, August 3, 2025

من مجريات الحياة اليومية -11

 من مجريات الحياة اليومية -11

مدينة العلم والثقافة......أم مدينة الشتائم؟

تعد مدينة دلهي مركزاً للعلم والمعرفة والثقافة وتحتضن العديد من الجامعات والمعاهد والمدارس المرموقة. ولا شك فيه أن هذه المؤسسات التعليمية قد حظيت بالإشادة والتقدير لما شهدته من نمو وتقدم وتطور خلال السنوات الماضية.

ولكن أدهشتني الدراسة (survey) التي قدمها البروفيسور "سنيل جاغلان" قبل أسبوع أو أكثر وشعرت بالحزن الشديد، والتي تشير إلى أن دلهي تصدرت قائمة المدن التي يستخدم فيها السكان لغة مسيئة (Abusive language) بشكل يومي. بنسبة تصل إلى 80%. وتليها ولاية بنجاب، وأترابراديش، وبيهار، وراجستان، وهاريانا وغيرها.

إنها لحظة تستدعي التأمل والتفكير.

كان من المفترض أن تحتل مدينتنا مكانة رفيعة في مجالات العلم والثقافة والأخلاق، لكن الواقع يبدو مغايراً تماماً.

لا يقتصر استخدام الألفاظ النابية على المراهقين فحسب، بل يشمل الكبار أيضاً.

أود أن أوجه رسالة إلى كل قارئ!

هل هذا ما نعلمه أبناءنا؟

هل نربي أطفالنا على هذا النحو؟

هل غابت عنا أهمية التربية السليمة؟

هل أصبحنا نغفل عن دورنا التربوي؟

علينا أن نحفظ ألسنتنا و أن نرتقي بأسلوب حديثنا و ألا نستخدم لغة جارحة أو مسيئة في تعاملاتنا.

كما نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن السب فقال:

 سِباب المؤمن فسوق، وقتاله كُفر. متفق عليه." (مشكاة المصابيح)

ظفر هاشم المباركفوري 

03/أغسطس 2025م

08/صفر المظفر 1447ه‍


Tuesday, July 29, 2025

غزہ میں پانی بھی جان لیوا

 


غزہ میں پانی بھی جان لیوا

انگریزی سے ترجمہ

پانی کی فراہمی، پانی کی جستجو، پانی کا استعمال، پانی میں تیراکی۔۔۔۔یہ سب اہل غزہ کے لیے ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں_

غزہ میں، زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں موت ہی موت دکھائی دے رہی ہے، موت ہماری نہ جدا ہونے والی ساتھی بن گئی،  گلیوں اور سڑکوں پر جاتے ہوئے موت، آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہوئے موت، یا پھر اپنے ہی گھروں میں موت، 

یہ کوئی صدمہ نہیں، بلکہ ایک خطرناک یومیہ حقیقت ہے جو ہمیں در پیش ہے اور مجبوراً ان کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑ رہا ہے_

سنا تھا جینے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں، یہاں غزہ میں موت کے مختلف طریقے و راستے ہیں، لیکن یہ راستے اور طریقے کوئی خود سے نہیں چن سکتا_

بمباری سے آپ کی موت ہو سکتی ہے، یا پھر کسی بندوق کی گولی سے، یا بھوک مٹانے کے لیے خوراک جمع کرنے کی کوشش سے، یا خود شدتِ بھوک بھی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے_ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ غذائی قلت کے باعث 116 لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں بیشتر بچے شامل ہیں_

غزہ میں سب سے آسان اور بنیادی چیز بھی جان لیوا ہو سکتی ہے، چاہے وہ پانی ہی کیوں نہ ہو، اس کا ہر پہلو، ہر لمحہ خطرناک ہو سکتا ہے، پانی کی فراہمی میں بھی ہلاکت، پانی کی جستجو میں نکلو تو ہلاکت، پیو تو ہلاکت، پانی میں تیرو تو ہلاکت، موت ہی موت ہے_

جب سے نسل کشی کا آغاز ہوا ہے، اسرائیلی افواج نے آبی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بناکر اس کو تباہ کر دیا ہے، غزہ کے 85 فیصد سے زائد پانی، اور نکاسی آب کے ڈھانچے، بشمول پائپ لائنز، کنویں اور پانی کی صفائی کے پلانٹ کام کرنے بند کر دیے ہیں_

اسرائیل نے پانی سے متعلق تمام اشیاء کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے، جس کی وجہ سے مرمت کے کاموں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ آبی ذخائر کو نشانہ بنا کر وہاں کے قیمتی آلات اور پرزہ جات کو تباہ کر دیا ہے_

مزید برآں، جو بھی اس آبی تنصیبات کی مرمت کے لیے جاتا ہے اسے نشانہ بنا کر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے، واٹر سیکٹر میں کام کرنا اب موت کا کھیل بن چکا ہے_

غزہ میں آبی تنصیبات کی تباہی نے یومیہ پانی کی تلاش میں نکلنے پر مجبور کر دیا ہے، کچھ جنگی منافع خور ایسے ہیں جو گھر تک پانی پہنچانے میں بھاری رقم وصول کرتے ہیں، جبکہ عام لوگ اس رقم کے ادا کرنے پر استطاعت نہیں رکھتے_

مجبوراً اہل غزہ کو ہاتھ میں پلاسٹک کا جگ لیے ہوئے پانی کی تلاش میں دور دراز کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے، اور لمبی لمبی قطاروں میں لگنا پڑتا ہے_

چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ہوکر انتظار کرنا نہ صرف ان کو تھکا دیتا ہے، بلکہ موت کا سبب بھی بن جاتا ہے_

مقامی کنویں سے پانی کا استعمال بھی انسانی صحت کے مناسب نہیں، یہ پانی جراثیم، کیمیکل اور دیگر آلودگیوں سے بھرا پڑا ہے جن سے بیماری پھیلنے کا شدید خطرہ ہے_

میں خود اس سے دوچار ہو چکا ہوں، مہینوں پہلے، میں نے ایک مقامی کنویں سے پانی پیا تھا، مجھے "ہیپاٹائیٹس اے" ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے میری آنکھیں اور جلد کا رنگ زرد ہو گیا تھا، متلی نے مُجھے کھانے سے محروم کر دیا تھا، مسلسل بخار کی وجہ سے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا، لیکن سب سے تکلیف دہ چیز میرے پیٹ کا درد تھا، کئی ہفتوں تک میں بستر علالت پر تھا، میرا جسم لاغر ہو گیا تھا، میری ذہنی حالت خطرناک ہو گئی تھی_

دوا لینے ایک کلینک پر گیا، ڈاکٹر نے پین کلر دی، لیکن صحت یابی نہیں ہوئی، مجھے خود ہی اس بیماری سے لڑنا پڑا تھا جو میں نے کیا_

الحمد للہ، میں بچ بھی گیا، لیکن دیگر حضرات اتنے خوش قسمت نہیں_

ناقابل برداشت گرمی کے شدت میں، ایک شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ سمندر کا پانی ہی کچھ راحت پہنچا سکتا ہے لیکن یہ بھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے_

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق، ایک شخص کو اپنی یومیہ حاجت پوری کرنے کے لیے 100 لیٹرز (26 گیلن) پانی کی فراہمی کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن غزہ میں روزانہ صرف دو سے تین لیٹرز ہی پانی ملتے ہیں_

غزہ میں پانی کی جنگ تو ہے ہی، دوسری طرف، نہ تو کھانا ہے کہ ایک بھوکے خاندان کو کھلایا جاسکے، نہ بجلی ہے جس سے پنکھا چلا کر ہوا کھائی جا سکے، نہ ہی دوا ہے جس سے بیماروں کا علاج کیا جا سکے_

میں دنیا والوں سے یہ کہنا چاھتا ہوں:

آپ کی خاموشی ان بموں سے زیادہ گونج رہی ہیں جو روزانہ ہم پر گرتے ہیں، اور برسائے جاتے ہیں_

اگر آپ نے اب بھی کچھ نہ کیا، اب بھی خاموش رہے، تو یاد رکھئے، تاریخ آپ کو بھی ان فلسطینیوں کے قتل عام اور بھوک مری میں شریک مجرم سمجھے گی_


ظفر ہاشم مبارکپوری 

29/جولائی 2025ء

3/صفر المظفر 1447ھ


Sunday, July 27, 2025

غزہ میں بھوک کا قہر

 


غزہ میں بھوک کا قہر: بچے رونے سے قاصر، والدین کی بانہوں میں دم توڑ رہے ہیں

غزہ سے آنے والے مناظر اور دل دہلانے دینے والے واقعات نے پورے عالم میں خوف و ہراس اور اضطراب کا ماحول پیدا کر دیا ہے، ایک ایسا منظر جو اکیسویں صدی کی انسانیت پر ایک سوالیہ نشان ہے، غزہ کے اسپتالوں کے وارڈز، موت کا میدان بن گئے، جہاں، لوگ ایک کے بعد ایک، جان کی بازی لگا رہے ہیں اور ہر لمحہ، بھوک ایک نئی جان لے رہی ہے، جس کو اقوامِ متحدہ کی رپورٹس نے عہد حاضر کی بدترین انسانی تباہی سے تعبیر کیا ہے، جبکہ طبی رپورٹس نے ان اموات کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کی ہیں کہ جنہیں محض دو ڈالر کی دوا سے روکا جا سکتا تھا_

شمالی غزہ کے "اصدقاء المریض" نامی اسپتال کے بچہ وارڈز میں اس وقت ایک قیامت خیز سناٹا چھا گیا، جب ایک ہفتے کے دوران پانچ ننھے ننھے معصوم بچوں کے دل دھڑکنے بند ہو گئے، کسی بمباری کی وجہ سے نہیں، نا ہی کسی بیماری کی وجہ سے، بلکہ شدتِ بھوک اور اس کے قہر نے انہیں موت کی نیند سلا دیا_

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، بھوک اور غذائی قلت کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 113 ہو گئی ہے، جن میں 81 بچے شامل ہیں، دو روز قبل اس اعداد و شمار کا اعلان کیا گیا_

ڈاکٹر رنا صبوح، جو امریکی تنظیم "میڈگلوبل" سے وابستہ ہیں، کہتی ہیں کہ بچے ایسے نازک اور سنگین حالت میں اسپتال لائے جارہے ہیں، جو ناقابل بیان ہے، بچے نہ رو سکتے ہیں، نہ چل سکتے ہیں، ان کے جسم کمزور ہو چکے ہیں، ان کی آنکھیں دھنس چکی ہیں، اور ہاتھ پاؤں سوکھ کر لکڑیوں کے مانند ہو گئے ہیں، موت کا ایک ایسا ہولناک منظر جو اس پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا_

غزہ کی 90 فیصد آبادی بھوک کا شکار ہے، اس وقت، تقریباً ایک لاکھ بچے اور خواتین کو ہنگامی طبی علاج کی ضرورت ہے_

ناصر اسپتال کے ڈائریکٹر، جناب ڈاکٹر احمد الفرا کا کہنا ہے "غزہ میں کوئی بھی بھوک سے محفوظ نہیں"، میں ایک ڈاکٹر ہوکر خود اپنے خاندان کے لیے آٹے کی تلاش میں ہوں_

خدیجہ المتوق، جو ایک خیمہ میں رہتی ہیں، کہتی ہیں "میں اپنے بچوں کے لیے کھانے کی تلاش میں سڑکوں پر نکلتی ہوں، میں خود بھوک تو برداشت کر سکتی ہوں، لیکن میرے بچوں کے اندر بھوک برداشت کرنے کی طاقت نہیں"_

نوبت یہاں تک آ گئی کہ بعض خاندان جانوروں کے چارے کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں، بعض تو کچڑے کے ڈھیر سے خوراک کی تلاش کر رہے ہیں، طبی عملہ روزانہ صرف 10 چمچہ چاول کھاکر طویل ڈیوٹیوں کا سامنا کر رہا ہے_

یا اللہ غزہ کی مدد فرما۔ وہ سرزمین جو آج بھوک، پیاس، جنگ اور ناانصافی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے، جہاں معصوم بچے غذا کے ایک نوالے کو ترس رہے ہیں اور مائیں اپنے جگر گوشوں کو دم توڑتے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ یا اللہ! اپنے فضل سے ان پر رحم فرما، آمین!


ظفر ہاشم مبارکپوری 

27/جولائی 2025ء

1/صفر المظفر 1447ه‍





Sunday, July 20, 2025

من مجريات الحياة اليومية -10

 من مجريات الحياة اليومية -10

كنتُ جالساً على كرسيّي المفضّل أفكّر فيما أكتب اليوم. فتحتُ هاتفي الذكي، و بدأت أتصفّح صحيفة "الأيام" الفلسطينية. ثم توقفتُ لبرهةٍ، و طرحتُ على نفسي سؤالاً: عمّ أكتب؟

هل أكتبُ عن الغارات العنيفة على خان يونس؟

أم عن تجديد أوامر الإخلاء في شمال غزة؟

هل أكتب عن الأطفال الذين يُستشهدون برصاص الاحتلال؟

أم عن أنقاض المنازل قصفها الاحتلال في غزة؟

هل أكتب عن عمليات الاقتحام اليومية؟

أم عن مواجهة الجوع والعطش؟

هل أكتب عن تعرض للقصف الذي لا يتوقف؟

 أم عن إطلاق النار على مدار الساعة؟ 

هل أكتب عن سقوط القنابل على النازحين؟

أم عن سقوط الشهداء والجرحى يومياً من النساء والأطفال؟

هل أكتب عن عيش حياة قاسية و صعبة؟

أم عن عيش مرارة النزوح والتنقل من مكان إلى آخر؟

هل أكتب عن شعورهم بالحر الشديد؟

أم عن تحول بشرتهم إلى سمراء؟

هل أكتب عن المئات من مختلف الأعمار الذين أصابهم الجوع الحاد وسوء التغذية ؟

أم عن الطوابير الطويلة للمجوعين يلاحقون رغيف الخبز وسط الرصاص؟

هل أكتب عن تدمير خط مياه في قرية أم صفا؟

أم عن شيء آخر؟

ما الذي أكتبه، و ما الذي لا أكتبه؟

فبينما الحرب لا تزال مستمرة،

والهجمات لا تتوقف،

وغزة تشهد كل ذلك و أكثر.

لا أعرف متى ستنتهي هذه الحرب؟

حسبنا الله ونعم الوكيل اللهم كُن لأهل غزة عوناً ونصيراً!!!!


ظفر هاشم المباركفوري 

19 يوليو 2025م 

23 محرم الحرام 1447ه‍

Friday, July 18, 2025

من مجريات الحياة اليومية -9

 من مجريات الحياة اليومية -9

بدأتُ اليوم قراءة كتابٍ جديدٍ باللغة الأوردية بعنوان (دنیا خوب دیکھا)، و يعني: "طوّفتُ في مشارق الأرض و مغاربها"، ألّفه فضيلة الشيخ البروفيسور "محسن عثماني الندوي" حفظه الله و رعاه.

يُعد البروفيسور محسن عثماني الندوي أحد العلماء البارزين، والكتّاب المتميزين في الهند. ألف أكثر من خمسين كتاباً، و كتب أيضاً العديد من المقالات في موضوعات متنوعة تشمل: العلوم الإسلامية، والتاريخ والأدب والأوضاع الراهنة وغيرها، وقد حازت مؤلفاته و تصنيفاته قبولاً واسعاً بين الأوساط العلمية والأدبية.

يحتوي هذا الكتاب على سرد شيق لرحلاته إلى عدة بلدان، منها: أمريكا ولندن وتركيا ومصر والشام والأردن وإيران و المغرب.

ولم أكمل بعدُ قراءة هذا الكتاب الرائع، بل قرأت اليوم الجزء الابتدائي المتعلق برحلته إلى أمريكا، والذي يتكون من ٧٢ صفحة، إن شاء الله سأكمل قراءته قريباً.

الكتاب غني بالمعلومات القيمة والملاحظات الدقيقة، ويتميز بأسلوبه الأدبي الشيق، مما يجعله من أروع ما كُتب في أدب الرحلات باللغة الأوردية. لقد استمتعتُ بكل لحظة من رحلته. ولذلك أنصح الجميع بقراءته والاستفادة من هذا العمل المبدع.

ظفر هاشم المباركفوري 

22 محرم الحرام 1447ه‍


Tuesday, July 15, 2025

ڈاکٹر اورنگزیب اعظمی صاحب کا ایک قابل قدر عربی ترجمہ

 


ڈاکٹر اورنگزیب اعظمی صاحب کا ایک قابل قدر عربی ترجمہ

ہندوستان کے مشہور و معروف محقق، مصنف و مؤرخ قاضی اطہر مبارکپوریؒ علمی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہیں، اردو اور عربی زبان میں ان کی بےشمار کتابیں موجود ہیں_

قاضی اطہر مبارکپوریؒ کی ایک اہم اردو کتاب "خلافت عباسیہ اور ہندوستان" کا نہایت خوبصورت اور شاندار عربی ترجمہ استادِ محترم ڈاکٹر اورنگزیب اعظمی صاحب کے ہاتھوں بڑی محنتوں اور مشقتوں کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے، یہ ترجمہ مئی 2025 کو مرکزی پبلیکیشنز نیو دہلی سے شائع ہو کر اہل علم کے درمیان آچکا ہے، اور امید ہے کہ عرب دنیا میں بھی اس کا خیر مقدم کیا جائے، یہ ترجمہ کافی عمدہ اور لاجواب ہے_

استاد محترم ڈاکٹر اورنگزیب اعظمی صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے شعبۂ عربی کے ممتاز استاذ اور بنگال سے شائع ہونے والے علمی مجلہ "مجلة الهند" کے مدیرِ تحریر ہیں_ آپ متعدد علمی و ادبی کتابوں کے مصنف اور کئی اہم کتابوں کے مترجم بھی ہیں، ڈاکٹر صاحب کی اب تک پچاس سے زائد کتابیں عربی، انگریزی اور اردو میں شائع ہو چکی ہیں، ان کی تصنیفات اور تراجم علمی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، ان کے عربی مضامین ملک و بیرونِ ملک کے مؤقر مجلات و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں_

 ڈاکٹر صاحب کا یہ زبردست کارنامہ علمی و ادبی دنیا میں یقیناً ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا۔ اور عربی حلقوں میں کافی مقبول و فائدہ مند ہوگا_

عربی زبان و ادب کے اساتذہ و طلباء کو اس خوبصورت کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے_

اس طرح کے تراجم کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے، تاکہ ہمارے اکابرین کے کارناموں اور انکی خدمات جلیلہ سے عالم عرب کو متعارف کرایا جا سکے_

کتاب بشکل پی ڈی ایف حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کرکے ڈاؤنلوڈ کریں_ مزید اس چینل پر آپ قاضی صاحب رحمہ اللہ کی تمام کتابیں بھی پڑھ سکتے ہیں_

https://t.me/qaziatharacademy/2504

اللہ تعالیٰ قاضی صاحب کے کارناموں اور ان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ہمارے استادِ محترم کی اس خوبصورت کاوش کو قبول و منظور فرمائے_ آمین!

ظفر ہاشم مبارکپوری 

15 جولائی 2025

19 محرم الحرام 1447ھ




انس الشریف ۔۔۔۔۔۔ ایک نڈر صحافی

  انس الشریف۔۔۔ ایک نڈر صحافی   ایک عظیم مجاہد، دشمنوں کی صفوں کو للکارنے والا، ہمت و استقلال کا پہاڑ، شہر عزیمت کا سپاہی، بے باک و جانباز ص...